Great.PK Community

This is a sample guest message. Register a free account today to become a member! Once signed in, you'll be able to participate on this site by adding your own topics and posts, as well as connect with other members through your own private inbox!

اردو مضمون سرسوں کے سدا بہار اور صحت افزا فوائد - حکیم نیاز احمد ڈیال

سردی میں جہاں اور بہت سی خوش کن تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں وہیں سرسوں کے زرد پھول چہار سو بہار آنے کا پیغام پھیلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ آنکھوں کو بھاتے اور دل لبھاتے بسنتی رنگ میں رنگے سرسوں کے کھیت کائنات کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔

سرسوں کا مزاج گرم وخشک ہے اور اس کا تعلق آتشی ستارے مریخ سے ہے۔ سرسوں کی مختلف اقسام ہیں، جن میں دیسی سرسوں، گوبھی سرسوں، سفید سرسوں رایا اور توریا وغیرہ شامل ہیں۔ سرسوں میں ایک خاص قسم کا تیزابی مادہ پایاجاتا ہے جس سے اس کے تیل کا ذائقہ تلخ اور بد مزہ سا ہوتا ہے۔


گوبھی سرسوں میں تیزابی مادہ قدرے کم ہوتا ہے جس کی بنا پر اس کا ذائقہ بھی بہتر ہوتا ہے اور اس کے تیل میں پکائے گئے کھانے بھی بد مزہ نہیں ہوتے۔ گوبھی سرسوں جو کینولا کے نام سے معروف ہے اور بہت سی بناسپتی بنانے والی کمپنیاں کینولا آئل مارکیٹ بھی کرتی ہیں جو کھانا پکانے میں مستعمل ہے۔

سرسوں کا تیل صدیوں سے کھانا پکانے میں استعمال ہوتا آرہا ہے۔ سرسوں کے تیل کو ہمارے گھروں میں کوڑا یا کڑوا تیل بھی کہا جاتا ہے۔ رایا اور دیسی سرسوں میں ایک خاص قسم کے تیزابی مادے کی کثرت ہونے سے تیل کڑوا اور بد مزہ سا ہوتا ہے جو کھانے میں کڑواہٹ پیدا کر دیتا ہے، یوں کھانا کھاتے وقت ناگواری کے تاثرات چہرے پہ آنا معمولی بات ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات اور زرعی ترقی کے طفیل اجناس کے بیجوں میں بھی مفید پیش رفت سامنے آرہی ہے۔ بیجوں کی نئی اقسام کی دریافت اور ایجاد سے فصل کے جھاڑ اور معیار میں کافی بہتری آرہی ہے۔ گوبھی سرسوں یا کینولا کے تیل میں تیزابی مادوں کی مقدار خاصی کم ہوتی ہے جس سے یہ تیل پکانے کے لیے بہترین ثابت ہو رہا ہے۔کینولا آئل سے کھانے میں تلخی بھی پیدا نہیں ہوتی اور کھانا مزیدار بھی بنتا ہے۔

صحت کے حوالے سے بات کی جائے تو سرسوں انتہائی انسان دوست جنس ہے، جو انسانی صحت کی بہترین محافظ بھی ہے۔ سرسوں کے تیل میں ان سیچوریٹڈ فیٹس پائی جاتی ہیں۔ ان سیچوریٹڈ فیٹس وہ چربیاں ہیں جو انسانی بدن کی حرارت سے پگھل جاتی ہیں اورخون کو جمنے سے روکتی ہیں۔ شریانوں کو نرم رکھتی اور خون کے بہاؤ کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

امراض قلب، ذیابیطس، بلڈ پریشر، جگری امراض اور اعصبابی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے سرسوں کا تیل خالق کائنات کی ایک نعمت بے بہا سے کم نہیں ہے۔ سرسوں کے تیل میں ہلکی سے ناگوار ہمک پائی جاتی ہے جو کھانا کھاتے وقت اکثر محسوس بھی ہوتی ہے۔

سرسوں کے تیل سے ناگوار ہمک ختم کرنے کے لیے 5 لیٹر سرسوں کے تیل میں 50گرام ادرک کی باریک قاشیں ڈال کر تیل کو آگ پر صرف ایک ابال دلا لیں۔ تیل نتھارکر محفوظ رکھ لیں اب تیل سے ناگوار ہمک کا خاتمہ ہوگیا ہے اور تیل میں بنے کھانے سے کسی قسم کی کوئی ناگواری محسوس نہیں ہوگی۔

سرسوں کا بہترین تیل کولھو سے نکلوایا جانے والا سمجھاجاتاہے۔ 12کلوگرام سرسوں سے 4کلو سے ساڑھے 4کلوگرام تک تیل برآمد ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں ملاوٹ مافیا نے مقدار میں اضافے کے لیے اس میں بھی ملاوٹ کی ہے، جس سے یہ ناخالص اور مضرصحت ہو گیا ہے۔ ایسے قارئین جو سرسوں کے تیل کی افادیت سے استفادہ کرنے کے خواہش مند ہوں انہیں چاہیے کہ وہ گوبھی سرسوں کا تیل خود کولھو سے نکلواکر استعمال کریں۔ بچت اور صحت ایک حاصل ہو گی۔

سرسوں کا تیل مقوی بدن کی خاصیت رکھتا ہے۔ یہ انسانی چہرے اور بدن کی رنگت نکھارتا ہے۔ یہی وجہ ہے سرسوں کے تیل کو مختلف جڑی بوٹیوں میں شامل کرکے خوبصورتی بڑھانے والے ابٹن تیار کیے جاتے ہیں۔

اسی طرح بدن پر مالش کرنے سے انسانی جسم خوبصورت اور طاقت ور ہوتا ہے۔ سرسوں کے تیل کی مالش سے بدنی خشکی اور کھجلی سے نجات ملتی ہے۔ کمر درد، جوڑوں کا درد، چوٹ اور موچ کے درد میں ہلدی اور نمک میں تیل ملاکر باندھنے سے درد میں فوری افاقہ ہوتا ہے۔ بالوں کی افزائش، ملائمت، حفاظت اور خوبصورتی کے لیے سر میں صدیوں سے سرسوں کے تیل کا مساج کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان میں سرسوں کی پیداوار صلاحیتیں ملکی ضروریات سے بہت کم ہیں۔ سرسوں کا تیل بناسپتی صنعت کا لازمی حصہ ہے لیکن ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنی ضروریات کا صرف 25 فیصد خوردنی تیل ملکی ذرائع سے حاصل کر پاتے ہیں۔
باقی 75% ضرورت کا خوردنی تیل بیرون ممالک سے منگونا پڑتا ہے۔ اگر ہم مقامی طور پر سرسوں کی پیداوری صلاحیت بڑھانے پر توجہ دیں تو باقی 75%خوردنی تیل اندرون ملک پیداکرکے ہم خاطر خواہ حد تک زرمبادلہ بچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

پاکستان میں سرسوں کی کاشت کا بہترین وقت ستمبر اور اکتوبر سمجھا جاتا ہے۔ شمالی اور وسطی پنجاب کے آبپاشی والے علاقوں میں رایا اور گوبھی سرسوں کی کاشت یکم ستمبر سے 30ستمبر تک کی جاتی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے آپباشی والے علاقوں میں رایا اور گوبھی سرسوں یکم اکتوبر سے 31اکتوبر کاشت کرنے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔

سرسوں کی گندلوں اور پتوں سے ساگ بناکر لوگ مکئی اور باجرے کی روٹی کو مکھن اور دیسی گھی سے چپڑ کر مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔ساگ کے پراٹھے، ساگ چاول اور ساگ گوشت جیسے مزیدار پکوان بڑے شوق سے بنائے اور کھائے جاتے ہیں۔طبی لحاظ سے ساگ ثقیل، دیر ہضم اور ریح پیداکرنے والی خوراک ہے۔ لیکن یہ مقوی و محرک بدن ہے۔

اعصاب ودماغ کو طاقت دیتا ہے۔ خون پیداکرتا اور عام جسمانی کمزوری کا خاتمہ کرتا ہے۔ یہ بلغمی مواد کی افزائش کا خاتمہ کرتا ہے۔ گرم اور خشک مزاج کے حاملین کے لیے ساگ نقصان کا باعث بھی بن سکتاہے جبکہ اس کے برعکس بلغمی اور سرد مزاج والے ساگ سے کئی بدنی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

ساگ بناتے وقت اس میں شامل اجزا پالک، میتھی، میتھرے باتھو گاجر کے پتے، سبز دھنیا ادرک لہسن اور دوسرے مسالہ جات اسے ایک طاقتور غذائی مرکب بنا دیتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے بے بہا فوائد کا ذریعہ بنتا ہے۔ ساگ قبض کشا اور پیشاب آور خواص کا حامل ہوتا ہے۔ساگ سردی کو دور بھگاتا ہے اور شدید سردی میں بھی گرمی کا احساس بیدار رکھتا ہے۔

دیہاتوں میں ساگ بطور خوراک وافر مقدار میں استعمال کیاجاتا ہے جبکہ شہروں میں بسنے والے اپنے عزیز و اقربا اور دوست واحباب کوساگ بطور سوغات تحفے میں پیش کیاجانا پنجابیوں کی روایت ہے۔ سرسوں کو بطور چارہ مویشیوں کو بھی ڈالا جاتا ہے۔ سرسوں سے تیل نکالتے وقت سرسوں کا پھوک جسے کھل بھی کہاجاتا ہے۔ دودھ دینے والے مویشی گائے اور بھینس کو دودھ کی افزائش میں زیادتی کے لیے بطور ونڈا کھلایا جاتا ہے۔

سردی، سرسوں اور ساگ خداکی بے مثال نعمتیں ہیں۔ سردی کے موسم میں انواع واقسام کے پکوان کھا کر لطف اٹھائیے۔ سرسوں اور ساگ کے ہوتے ہوئے سردی کی کیا مجال ہے کہ سردی آپ کے قریب بھی پھٹک سکے۔

Credit: Express.PK
 
Back
Top