Great.PK Community

This is a sample guest message. Register a free account today to become a member! Once signed in, you'll be able to participate on this site by adding your own topics and posts, as well as connect with other members through your own private inbox!

Urdu Articles

سردی میں جہاں اور بہت سی خوش کن تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں وہیں سرسوں کے زرد پھول چہار سو بہار آنے کا پیغام پھیلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ آنکھوں کو بھاتے اور دل لبھاتے بسنتی رنگ میں رنگے سرسوں کے کھیت کائنات کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ سرسوں کا مزاج گرم وخشک ہے اور اس کا تعلق آتشی ستارے مریخ سے ہے۔ سرسوں کی مختلف اقسام ہیں، جن میں دیسی سرسوں، گوبھی سرسوں، سفید سرسوں رایا اور توریا وغیرہ شامل ہیں۔ سرسوں میں ایک خاص قسم کا تیزابی مادہ پایاجاتا ہے جس سے اس کے تیل کا ذائقہ تلخ اور بد مزہ سا ہوتا ہے۔ گوبھی سرسوں میں تیزابی مادہ قدرے کم ہوتا ہے جس کی بنا پر اس کا ذائقہ بھی بہتر ہوتا ہے اور اس کے تیل میں پکائے گئے کھانے بھی بد مزہ نہیں ہوتے۔ گوبھی سرسوں جو کینولا کے نام سے معروف ہے اور بہت سی بناسپتی بنانے والی کمپنیاں کینولا آئل...
یورپ میں مسلمانوں سے نفرت کا ایک تاریخی پہلو بھی ہے۔ قدیم روم کی سلطنت کے زیر نگیں ایشیا اور افریقہ کے سرسبز علاقے شام، فلسطین، مصر، لیبیا، تیونس اور الجیریا بھی آتے تھے۔ رومن بادشاہ یہاں سے خوراک اور غلام برآمد کرتے اور ان محکوم علاقوں کی محنت سے روم کی سلطنت کے خواص و عوام خوشحال اور خوش و خرم زندگی گزارتے۔ ایشیا اور افریقہ کے یہ تمام علاقے صدیوں سے عیسائیت کا مرکز رہے۔ مسلمانوں کی ابتدائی جنگیں انہی علاقوں پر ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے صرف چند سالوں میں یہ تمام علاقے جو دراصل مسیحی روم کے ہاتھوں استحصال سے کچلے ہوئے تھے، اسلام کی آزادی اور حریت کے تصور کے سحر سے مسلمان ہو گئے۔ روم سمٹ کر رہ گیااور لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔ عیسائی چرچ جو دراصل رومی سلطنت کا اصل حکمران تھا، اپنی اس ذلت آمیز شکست کے بعد ایک بالکل نئے انداز سے...
جزیرہ نما آئبیریا (Iberia) تین جانب سے سمندر میں گھرا ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ یورپ سے نسبتاً علیحدہ ہے۔ اس کا جو حصہ یورپ کے ساتھ خشکی سے منسلک ہے، اسے بھی پہاڑی سلسلے پرنیز (Pyrenees)کی دیوار نے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ اس جزیرہ نما آئبیریا پر اس وقت، دو یورپی ملک سپین اور پُرتگال واقع ہیں۔ دونوں ایک زمانے میں اپنی افواج کے ساتھ دنیا فتح کرنے نکلے اور مدتوں ان کے زیر نگین بے شمار ممالک کالونیوں کی صورت رہے ہیں۔ لیکن آج یہ دونوں ملک سمٹ کر واپس اسی جزیرہ نما تک محدود ہو چکے ہیں۔ تقریباً بارہ سو سال قبل 19 جولائی 711ء کے تاریخی دن طارق بن زیاد کی صرف سات ہزار فوج نے سپین کے بادشاہ راڈرک کی ایک لاکھ فوج کو شکست دے کر اس سرزمین پر اسلام کا پرچم بلند کیا تھا۔ اس سرزمین پر مسلمانوں کی حکومت تقریبا آٹھ سو سال تک قائم رہی۔ مسلمانوں نے اسے اُندلس...
مجھے دسمبر 2019میں ایک فون آیا‘ دوسری طرف سے نہایت تہذیب اورشائستگی کے ساتھ بتایا گیا ’’میں پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب بول رہا ہوں‘‘ یہ نام اورآوازاجنبی تھی‘ میں نے عرض کیا ’’ڈاکٹر صاحب میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘ پروفیسر صاحب نے جواب دیا ’’میں آج کل اسلامیہ یونیورسٹی کا خادم ہوں‘میں وائس چانسلرکی خدمات ادا کر رہا ہوں‘‘ میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی‘مجھے 28 سال بعد شہزاد کے علاوہ بھی کسی نے میری یونیورسٹی سے فون کیا تھا‘ پروفیسر صاحب نے شکوہ کیا آپ پوری دنیا پھرتے رہتے ہیں لیکن اپنی یونیورسٹی نہیں آتے‘ کیوں؟ میں نے عرض کیا ’’سر مجھے آج تک یونیورسٹی نے بلایا ہی نہیں‘ میرا ڈیپارٹمنٹ شاید مجھے اون نہیںکرتا‘‘ پروفیسر ہنسے اور فرمایا ’’آج سے ہم آپ کا یہ گلہ ختم کر رہے ہیں‘ آپ اب ہمارا شکوہ دور کر دیں‘ آپ یونیورسٹی وزٹ کریں‘‘ میں نے ان سے...
وہ ڈھانچے کی طرف کمر کر کے کھڑی تھی اور طالب علموں کو 6اگست 1945کی اس صبح کی خوف ناک کہانی سنا رہی تھی جب امریکا نے ہیروشیما پر تاریخ کا پہلا ایٹم بم گرایا تھا‘ وہ کہانی سناتی جاتی تھی اور روتی جاتی تھی‘ میں خاموشی سے سائیڈ پر کھڑا تھا اور کبھی ڈھانچے کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی اسے اور کبھی اس کے طالب علموں کو‘ ہیرو شیما کا میموریل نومبر کی دھوپ میں چمک رہا تھا۔ فضا میں ہلکی ہلکی گرمائش تھی‘ یہ گرمائش سردیوں کے شروع میں اچھی لگ رہی تھی‘ میں یہاں تیسری بار آیا تھا‘ پہلی بار 1996میں‘ دوسری بار پچھلے سال 2022میں اور تیسری بار اب اپنے گروپ کے ساتھ‘ آئی بیکس کا گروپ جاپان کے وزٹ پر ہے‘ ہم تین راتیں ٹوکیو میں گزار کر کل صبح ہیرو شیما آئے تھے‘ آج ایٹم بم کے میموریل پر چند گھنٹے گزار کر اوساکا چلے جائیں گے اور تین راتیں وہاں رہ کر واپس...
Back
Top